کاروار:3/ اگست(ایس او نیوز) رواں سال کاروار میں شروع کی گئی میڈیکل کالج کے لئے ضروری بنیادی سہولیات سے آراستہ کئے جانے کی بات ریاستی کابینہ کے میڈیکل تعلیم وزیر ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے کہی۔
وہ یہاں سنیچر کو کاروار میڈیکل کالج میں طلبا کے لئے منعقدہ اورینٹیشن پروگرام میں شرکت کے بعد خطاب کررہے تھے۔ میڈیکل کالج میں پہلے سال کے لئے ضرور ی تمام سہولیات فراہم کئے جائیں گے ، فی الحال کالج میں 80میڈیکل عملہ ہے، ضروری عہدے بھرتی کئے جاچکے ہیں ، بقیہ 15فی صد عہدوں پر بہت جلد تقررات کیاجائے گا۔ آئندہ دو ماہ میں ایم سی آئی کی ٹیم کالج کا معائنہ کرنے کےلئے پہنچے گی ، اس سے قبل کالج کے لئے تمام ضروریات کو فراہم کیاجائے گا۔
اعلیٰ درجہ کا اسپتال :400بیڈ پر مشتمل ضلعی سرکاری اسپتال کو میڈیکل کالج کے لئے منتقل کیا جائے گا، میڈیکل کالج مکمل طورپر کام کرنے کے لئے 650بیڈ کے اسپتال کی ضرورت ہے، اس کے لئے محکمہ خزانہ کو پیش کش ارسال کی جاچکی ہے۔ وزیر ڈاکٹر پاٹل نے بتایا کہ نئے سرے سے حکومت نے ریاست میں 6 میڈیکل کالج کو قائم کیاہے، مزید 6میڈیکل کالج کے لئے منظوری دی گئی ہے۔ اور اس کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع میں7نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کا فیصلہ لیا گیا ہے،جس کی منظوری کے لئے محکمہ خزانہ کو پروپوسل بھیجا گیا ہے، حکومت کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کا قیام ہو۔ ملک میں سب سے زیادہ میڈیکل کالج ریاست میں ہیں، لیکن اکثر پرائمری صحت مراکز پر ڈاکٹرس نہیں ہیں، اسی کو دیکھتے ہوئے دیہی خدمات کو لازمی کرتے ہوئے سرکارنے قانون بنایا ہے۔ حکومت میڈیکل طلبا کی تعلیم کے لئے خطیر رقم خرچ کررہی ہے، طلبا سے امید کی جارہی ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے بہتر ین صلہ دیں گے۔
طبی خدمت بڑی متبرک ہے: ضلع نگراں کار وزیر آر وی دیش پانڈے نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میڈیکل پیشہ بڑا متبرک پیشہ ہے۔ لیکن ہر شعبہ کی طرح یہاں بھی خدمت کے جذبے میں کمی ہورہی ہے، جلد ی پیسہ کمانے کی دھن میں غریبوں کو نظر انداز کیا جارہاہے، انہوں نے میڈیکل طلبا سے اپیل کی کہ وہ غریبوں کی خدمت کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔ میڈیکل کالج میں نئے طورپر داخلہ لئے طلبا نے وزراء کو گلاب پھول کے ذریعے استقبال کیا۔ ضلع پنچایت صدر جئے شری موگیر، ارکان اسمبلی ستیش سئیل ، منکال وئیدیا، ڈی سی ایس ایس نکول ، ضلع صحت عامہ کے میڈیکل افسر ڈاکٹر اشوک کمار وغیرہ موجود تھے۔